صدائے دل ہی کو آوازۂ جہاں نہ کہو
خود اپنی حد نظر ہی کو آسماں نہ کہو
ہر ایک ذرے کو ہنستا دیا بنانا ہے
فلک کے چاند ستاروں کی داستاں نہ کہو
نہ لاؤ یا تو زباں پر حدیث ناکامی
نہیں تو اپنی تمنا کو پھر جواں نہ کہو
یہ اپنا گھر ہے چلو اس پہ تصفیہ کر لیں
قفس کہوں نہ اسے میں تم آشیاں نہ کہو
نہ اتفاق عمل ہے نہ ایک سمت قدم
ابھی تو بھیڑ ہے یہ اس کو کارواں نہ کہو
خصومتوں میں خرد کی جہاں سنے نہ سنے
مرے سرود محبت کو رائیگاں نہ کہو
جہاں ہر ایک کو سجدے کا حق نہیں حاصل
اسے خدائے محبت کا آستاں نہ کہو
اجڑ بھی جائے نشیمن تو پھر نشیمن ہے
قفس میں پھول بھی رکھ دیں تو آشیاں نہ کہو
زمانہ مجھ پہ نہیں تم پہ خندہ زن ہوگا
تم آج دوستوں ملاؔ کو نکتہ داں نہ کہو
غزل
صدائے دل ہی کو آوازۂ جہاں نہ کہو
آنند نرائن ملا

