EN हिंदी
صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک | شیح شیری
sabr mushkil tha mohabbat ka asar hone tak

غزل

صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک

میلہ رام وفاؔ

;

صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک
جان ٹھہری نہ دل دوست میں گھر ہونے تک

شب فرقت کی بھی ہونے کو سحر تو ہوگی
ہاں مگر ہم نہیں ہونے کے سحر ہونے تک

سہنے ہیں جور و ستم جھیلنے ہیں رنج و الم
یعنی کرنی ہے بسر عمر بسر ہونے تک

تیرا پردہ بھی اٹھا دے گی مری رسوائی
تیرا پردہ ہے مرے خاک بہ سر ہونے تک

متزلزل تو ہے مدت سے نظام عالم
نوبت آ پہنچی ہے اب زیر و زبر ہونے تک

فرصت ماتم پروانہ کہاں سے آئے
شمع کو موت سے لڑنا ہے سحر ہونے تک

اے وفاؔ معرکۂ عشق تو سر کیا ہوگا
ہو چکیں گے ہمیں یہ معرکہ سر ہونے تک