EN हिंदी
سب کی آنکھوں میں جو سمایا تھا | شیح شیری
sab ki aaankhon mein jo samaya tha

غزل

سب کی آنکھوں میں جو سمایا تھا

ابو محمد سحر

;

سب کی آنکھوں میں جو سمایا تھا
کون تھا وہ کہاں سے آیا تھا

کس نے کی آج پرسش احوال
کوئی اپنا تھا یا پرایا تھا

مٹ گئے ہم تو یہ ہوا معلوم
بھول کر کوئی مسکرایا تھا

ایک لذت تھی خود فریبی میں
ورنہ کس نے فریب کھایا تھا

آ گئیں یاد پھر وہی باتیں
کل بہ مشکل جنہیں بھلایا تھا

سب تھے آسیب بزم کے مارے
ہم پہ تنہائیوں کا سایا تھا

عمر گزری سحرؔ محبت میں
ہم نے دل کچھ عجیب پایا تھا