EN हिंदी
سایوں سے لپٹ رہے تھے سائے | شیح شیری
sayon se lipaT rahe the sae

غزل

سایوں سے لپٹ رہے تھے سائے

صوفی تبسم

;

سایوں سے لپٹ رہے تھے سائے
دل پھر بھی فضا میں جگمگائے

بے صرفہ بھٹک رہی تھیں راہیں
ہم نور سحر کو ڈھونڈ لائے

یہ گردش روزگار کیا ہے
ہم شام و سحر کو دیکھ آئے

ہر صبح تری نظر کا پرتو
ہر شام تری بھوؤں کے سائے

ہے فصل بہار کا یہ دستور
جو آئے چمن میں مسکرائے

کیا چیز ہے یہ فسانۂ دل
جب کہنے لگیں تو بھول جائے

تم ہی نہ سمجھ سکے مری بات
اب کس کی سمجھ میں بات آئے

سونی رہی انتظار کی رات
اشکوں نے بہت دیے جلائے

وہ دن جو بہار زندگی تھے
وہ دن کبھی لوٹ کر نہ آئے