EN हिंदी
سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرح | شیح شیری
saya nahin hai dur tak sae mein aaen kis tarah

غزل

سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرح

قمر جمیل

;

سایہ نہیں ہے دور تک سائے میں آئیں کس طرح
ہم آ گئے ہیں کس طرف تم کو بتائیں کس طرح

یہ پھول پتے چاندنی یہ صورتیں من موہنی
ایسے میں اپنی جانکنی ان سے چھپائیں کس طرح

عالم بہاراں کا سہی منظر گلستاں کا سہی
بستی بیاباں کی سہی دامن بچائیں کس طرح

جس پھول کی ہر پنکھڑی ہوتی ہے موتی کی لڑی
اس پھول کی خاطر کبھی آنسو بہائیں کس طرح