EN हिंदी
ساون میں گھبرا جاتا ہے | شیح شیری
sawan mein ghabra jata hai

غزل

ساون میں گھبرا جاتا ہے

پروین کمار اشک

;

ساون میں گھبرا جاتا ہے
دل میرا صحرا جاتا ہے

الف سمجھ میں آ جاوے تو
سب کچھ پڑھنا آ جاتا ہے

برف کا اک اک آنسو پی کر
دریا وجد میں آ جاتا ہے

اصل سفر ہے وہاں سے آگے
جہاں تلک رستہ جاتا ہے

لڑکی میلے میں تنہا تھی
سوچ کے دل بیٹھا جاتا ہے

جب میں جنگل ہو جاتا ہوں
مور ناچنے آ جاتا ہے

شاید اس نے دستک سن لی
دیکھو در کھلتا جاتا ہے

نیند کے بین بجاتے ہی اشکؔ
بستر میں سانپ آ جاتا ہے