EN हिंदी
ساتھیو جو عہد باندھا ہے اسے توڑا نہ جائے | شیح شیری
sathiyo jo ahd bandha hai use toDa na jae

غزل

ساتھیو جو عہد باندھا ہے اسے توڑا نہ جائے

مبین مرزا

;

ساتھیو جو عہد باندھا ہے اسے توڑا نہ جائے
جسم میں جب تک لہو سے معرکہ ہارا نہ جائے

عہد ماضی میں بھی ہے کوہ ندا جیسا طلسم
یہ بھی وہ آواز ہے مڑ کر جسے دیکھا نہ جائے

اس قدر راس آ گئی ہیں ذات کی ویرانیاں
خود یہ خواہش ہو رہی ہے دل کا سناٹا نہ جائے

اس سے آگے واپسی کا راستہ کوئی نہیں
جو یہاں سے لوٹنا چاہے اسے روکا نہ جائے

جس سے دل وابستہ ہو بے انتہا شدت کے ساتھ
بھول کر بھی اس تعلق کو کبھی پرکھا نہ جائے

یاد اس کی پھر کہیں برسوں نہ آئے اس کے بعد
اتنا جی بھر کے بھی آج اس کے لیے رویا نہ جائے

میرے دکھ سکھ میرے اندر زندہ ہیں سب کی طرح
شہر کے لوگوں سے مجھ کو مختلف سمجھا نہ جائے