EN हिंदी
ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتا | شیح شیری
sari duniya ke talluq se jo socha jata

غزل

ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتا

قیصر الجعفری

;

ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتا
آدمی اتنے قبیلوں میں نہ بانٹا جاتا

دل کا احوال نہ پوچھو کہ بہت روز ہوئے
اس خرابے کی طرف میں نہیں آتا جاتا

زندگی تشنہ دہانی کا سفر تھی شاید
ہم جدھر جاتے اسی راہ پہ صحرا جاتا

شام ہوتے ہی کوئی شمع جلا رکھنی تھی
جب دریچے سے ہوا آتی تو دیکھا جاتا

روشنی اپنے گھروندوں میں چھپی تھی ورنہ
شہر کے شہر پہ شب خون نہ مارا جاتا

سارے کاغذ پہ بچھی تھیں مری آنکھیں قیصرؔ
اتنے آنسو تھے کہ اک حرف نہ لکھا جاتا