EN हिंदी
ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا | شیح شیری
saqi ki nigahon ka paigham nahin aata

غزل

ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا

شاعر فتح پوری

;

ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا
جس جام کا طالب ہوں وہ جام نہیں آتا

مے خواروں کی لغزش پر دنیا کی نگاہیں ہیں
نافہمیٔ واعظ پر الزام نہیں آتا

اللہ رے مجبوری اللہ رے محرومی
یا بارش صہبا تھی یا جام نہیں آتا

بیتابیٔ دل راز تسکین محبت ہے
اچھے ہیں وہی جن کو آرام نہیں آتا

یا دل کے دھڑکتے ہی اٹھتی تھی نظر ان کی
یا دل کا تڑپنا بھی اب کام نہیں آتا

میکش کی بھی سنتا ہے زاہد کی بھی سنتا ہے
اس در سے کبھی کوئی ناکام نہیں آتا

میری ہی نظر شاعرؔ رسوا ہے زمانے میں
حسن سر محفل پر الزام نہیں آتا