EN हिंदी
سانس اکھڑی ہوئی سوکھے ہوئے لب کچھ بھی نہیں | شیح شیری
sans ukhDi hui sukhe hue lab kuchh bhi nahin

غزل

سانس اکھڑی ہوئی سوکھے ہوئے لب کچھ بھی نہیں

سلطان اختر

;

سانس اکھڑی ہوئی سوکھے ہوئے لب کچھ بھی نہیں
پیاس کا نام ہی روشن ہے بس اب کچھ بھی نہیں

صبح تک پھر بھی نہیں بجھتے ہیں آنکھوں کے چراغ
جانتا ہوں کہ پس پردۂ شب کچھ بھی نہیں

سر احساس پہ دستار فضیلت نہ رہی
بس کہ اب سلسلۂ نام و نسب کچھ بھی نہیں

گل امکان نہ سر سبز کوئی برگ امید
یعنی اب کے تو سر شاخ طلب کچھ بھی نہیں

بے تعلق رہے برسوں تو کوئی بات بھی تھی
ان دنوں تم سے نہ ملنے کا سبب کچھ بھی نہیں

وضع داری ہی بکھرنے نہیں دیتی اخترؔ
ورنہ ہم ٹوٹے ہوئے لوگوں میں اب کچھ بھی نہیں