EN हिंदी
سانس روکے رہو لو پھر وہ صدا آتی ہے | شیح شیری
sans roke raho lo phir wo sada aati hai

غزل

سانس روکے رہو لو پھر وہ صدا آتی ہے

منموہن تلخ

;

سانس روکے رہو لو پھر وہ صدا آتی ہے
جس کو ترسیں کئی صدیاں تو سنی جاتی ہے

کوئی پہچان وہی پھانس بنی ہے کہ جو تھی
اجنبیت وہی ہر سانس میں شرماتی ہے

ہاتھ پھیلائے ہوئے مانگ رہی ہے کیا رات
کیوں اندھیروں میں ہوا روئے چلی جاتی ہے

موت کی نیند مگر اب کے ضرور اچٹی ہے
ورنہ ہم ایسوں کو جھپکی سی کہاں آتی ہے

بات کرتا ہوں میں سب کی یہ گماں کیسے ہے
میرا ہر سانحہ میرا ہے بہت ذاتی ہے

کیفیت سی یہ مگر کیا ہے ہمارے جی کی
جیسے رفتار کہ رفتار سے ٹکراتی ہے

اپنا پن بھی ہے وہی اور وہی کھویا پن
تلخؔ تو آج بھی پہلے سا ہی جذباتی ہے