EN हिंदी
سامنے جی سنبھال کر رکھنا | شیح شیری
samne ji sambhaal kar rakhna

غزل

سامنے جی سنبھال کر رکھنا

رسا چغتائی

;

سامنے جی سنبھال کر رکھنا
پھر وہی اپنا حال کر رکھنا

آ گئے ہو تو اس خرابے میں
اب قدم دیکھ بھال کر رکھنا

شام ہی سے برس رہی ہے رات
رنگ اپنے سنبھال کر رکھنا

عشق کار پیمبرانہ ہے
جس کو چھونا مثال کر رکھنا

کشت کرنا محبتیں اور پھر
خود اسے پائمال کر رکھنا

روز جانا اداس گلیوں میں
روز خود کو نڈھال کر رکھنا

سخت مشکل ہے آئنوں سے رساؔ
واہموں کو نکال کر رکھنا