EN हिंदी
صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ | شیح شیری
sahab dilon se rah mein aankhen mila ke dekh

غزل

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ

فضیل جعفری

;

صاحب دلوں سے راہ میں آنکھیں ملا کے دیکھ
رکھتا ہے تو بھی دل تو اسے آزما کے دیکھ

پہچاننے کی پیار کو کوشش کبھی تو کر
خود کو کبھی تو اپنے بدن سے ہٹا کے دیکھ

یا لذتوں کو زہر سمجھ اور دور رہ
یا شعلۂ گناہ میں دامن جلا کے دیکھ

ہر چند ریگ زار سہی زندگی مگر
پل بھر کو اپنے جسم کا جادو جگا کے دیکھ

سائے کی طرح ساتھ چلے گی کوئی صدا
سنسان جنگلوں میں اکیلے بھی جا کے دیکھ