EN हिंदी
صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں | شیح شیری
saf hum tum se aaj kitne hain

غزل

صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں

مرزا آسمان جاہ انجم

;

صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں
سب تمہیں بد مزاج کہتے ہیں

تیرے بیمار غم کو ہے وہ مرض
حکما لا علاج کہتے ہیں

میری دھڑکن سے وہ بھی نہ بے چین
ہاں اسے اختلاج کہتے ہیں

کیا عناصر میں ہے تری قدرت
بس اسے امتزاج کہتے ہیں

ہے شہادت کی آرزو قاتل
دل کی ہم احتیاج کہتے ہیں

داغ سودا نے سرفراز کیا
ہم اسے اپنا تاج کہتے ہیں

خوب پیدا کیا ہے نام انجمؔ
لوگ عاشق مزاج کہتے ہیں