EN हिंदी
رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی | شیح شیری
ruKH hawaon ke kisi samt hon manzar hain wahi

غزل

رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی

فضیل جعفری

;

رخ ہواؤں کے کسی سمت ہوں منظر ہیں وہی
ٹوپیاں رنگ بدلتی ہیں مگر سر ہیں وہی

جن کے اجداد کی مہریں در و دیوار پہ ہیں
کیا ستم ہے کہ بھرے شہر میں بے گھر ہیں وہی

پھول ہی پھول تھے خوابوں میں سر وادیٔ شب
صبح دم راہوں میں جلتے ہوئے پتھر ہیں وہی

ناؤ کاغذ کی چلی کاٹھ کے گھوڑے دوڑے
شعبدہ بازی کے سچ پوچھو تو دفتر ہیں وہی

بک گئے پچھلے دنوں صاحب عالم کتنے
ہم فقیروں کے مگر جعفریؔ تیور ہیں وہی