EN हिंदी
روز گرے اک خواب عمارت ملبے میں دب جاؤں | شیح شیری
roz gire ek KHwab-e-imarat malbe mein dab jaun

غزل

روز گرے اک خواب عمارت ملبے میں دب جاؤں

منور ہاشمی

;

روز گرے اک خواب عمارت ملبے میں دب جاؤں
صدیوں کی دیواریں پھاندوں لمحے میں دب جاؤں

کبھی کبھی صحراؤں کو بھی بند کروں مٹھی میں
اور کبھی اک ریت کے ادنیٰ ذرے میں دب جاؤں

میں تو خود اک پیڑ گھنا ہوں یہ ہے کیسے ممکن
چھوٹے موٹے پودوں کے میں سائے میں دب جاؤں

ایسا بھی ہو جائے اکثر ویسا بھی ہو جائے
سیلابوں کا رستہ روکوں قطرے میں دب جاؤں

میرے نام کا نون منورؔ اصل میں ایک معمہ
لاکھوں شرحوں میں ابھروں اک نکتے میں دب جاؤں