EN हिंदी
روز دینے لگے آزار یہ کیا | شیح شیری
rose dene lage aazar ye kya

غزل

روز دینے لگے آزار یہ کیا

عاشق اکبرآبادی

;

روز دینے لگے آزار یہ کیا
اور سمجھتے ہو اسے پیار یہ کیا

جرم الفت کی ہے تقدیر یہ کیوں
ہم سے رہتے ہیں وہ بیزار یہ کیا

ناتوانی ہوئی ہمدرد مری
درد کہتا ہے کہ سرکار یہ کیا

تم تو غارت گر دل ہو صاحب
پھر تمہیں کہتے ہیں دل دار یہ کیا

آہ کی میں نے تو بولے ہے ہے
جی اٹھا عاشقؔ بیمار یہ کیا