EN हिंदी
رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہے | شیح شیری
rone mein abr-e-tar ki tarah chashm ko mere josh hai

غزل

رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہے

عشق اورنگ آبادی

;

رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہے
نالہ میں آہ رعد سا شور ہے اور خروش ہے

رعد نے شور سے پکار مستوں کو یہ نوید دی
تم ہو کدھر اے مے کشو موسم ناے و نوش ہے

چاک کروں ہوں جیب صبر طالع عندلیب دیکھ
سننے کو اس کا درد دل گل ہی بہ شکل گوش ہے

کن نے چمن میں مے کشی کی ہے صبا تو سچ کہو
جام ہے گل کے ہاتھ میں غنچہ سبو بہ دوش ہے

کون دوانہ مر گیا اس کے عزا میں اب تلک
اس کے لباس سر بہ سر چشم سیاہ پوش ہے

نالہ ہے خانہ زاد عشق لیک کہاں سر و دماغ
اپنے تو قافلے کے بیچ جو ہے جرس خموش ہے