EN हिंदी
رشتۂ دم سے جان ہے تن میں | شیح شیری
rishta-e-dam se jaan hai tan mein

غزل

رشتۂ دم سے جان ہے تن میں

عشق اورنگ آبادی

;

رشتۂ دم سے جان ہے تن میں
منکے منکے سے تیرے سمرن میں

دیدۂ دل سے دیکھتا ہوں تجھے
سوچتا ہوں جب اپنے میں من میں

گل ہے شبنم سے آہ دیدۂ تر
بن وہ گل رو کے صبح گلشن میں

کربلا کے بگولے سارے کاش
خاک اڑاتا ہوا پھروں بن میں

گوہر آب دار کے مانند
اشک غلطاں ہیں میرے دامن میں

سرو گل زار سا سہاتا ہے
وہ مرا یار گھر کے آنگن میں

اپنی صورت کو اے شہنشہ حسن
عشقؔ کے دیکھ دل کے درپن میں