EN हिंदी
رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے | شیح شیری
raste mein koi aa ke inan-gir ho na jae

غزل

رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے

محسن زیدی

;

رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے
یہ جذبۂ جنوں مرا زنجیر ہو نہ جائے

اس کو جو اب کسی سے شکایت نہیں رہی
پھر کیوں وہ سب سے مل کے بغل گیر ہو نہ جائے

میں نے زبان دی ہے تو لب وا کروں گا کیا
لیکن زبان خلق سے تشہیر ہو نہ جائے

منظر یہ حشر خیز جو پیش نگاہ ہے
ڈرتا ہوں میرے خواب کی تعبیر ہو نہ جائے

آنکھوں میں بس گئی ہے وہ تصویر اس طرح
میری نگاہ شوق بھی تصویر ہو نہ جائے

محسنؔ نہ جانے صبح نمودار ہوگی کب
یہ شام بے چراغ ہی تقدیر ہو نہ جائے