EN हिंदी
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی | شیح شیری
rang-e-sharab se meri niyyat badal gai

غزل

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

اکبر الہ آبادی

;

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی

طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور
جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی

مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی

چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شام
پروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی

عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال
دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیں
پردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی