EN हिंदी
رکھا تھا جسے دل میں وہ اب ہے بھی نہیں بھی | شیح شیری
rakkha tha jise dil mein wo ab hai bhi nahin bhi

غزل

رکھا تھا جسے دل میں وہ اب ہے بھی نہیں بھی

محمد اعظم

;

رکھا تھا جسے دل میں وہ اب ہے بھی نہیں بھی
یوں ہی مرے جینے کا سبب ہے بھی نہیں بھی

پہنچا ہے ترے مہر سے قطبین کا موسم
دن تھا تو نہیں بھی تھا یہ شب ہے بھی نہیں بھی

فریاد نے سیکھی ہے تری وضع تبسم
اس رخ سے کہ شرمندۂ لب ہے بھی نہیں بھی

حیرت کدۂ دہر ہے اک خواب کا عالم
دیکھا جو اس عالم میں عجب ہے بھی نہیں بھی

مل جائے تو کتراؤں جو کھو جائے تو ڈھونڈوں
یہ کیسی طلب ہے کہ طلب ہے بھی نہیں بھی

یہ ہجر کی دوزخ ہی بھلی جیسی ہے سب ہے
اس وصل کی جنت سے کہ سب ہے بھی نہیں بھی