EN हिंदी
رہی ان کی چین جبیں دیر تک | شیح شیری
rahi unki chin-e-jabin der tak

غزل

رہی ان کی چین جبیں دیر تک

عاشق اکبرآبادی

;

رہی ان کی چین جبیں دیر تک
چڑھایا کئے آستیں دیر تک

اڑاتی رہی خاکساروں کی خاک
تمہاری گلی کی زمیں دیر تک

کسی کے جو آنے کی امید تھی
رہی لب پہ جان حزیں دیر تک

رہی دیکھ کر نقشۂ کوئے یار
تحیر میں خلد بریں دیر تک

وہ نیرنگیاں میرے رونے میں تھیں
کہ ہنستے رہے سب حسیں دیر تک