EN हिंदी
رہ گزر رہ گزر سے پوچھ لیا | شیح شیری
rahguzar rahguzar se puchh liya

غزل

رہ گزر رہ گزر سے پوچھ لیا

عرش ملسیانی

;

رہ گزر رہ گزر سے پوچھ لیا
تیرا گھر سب کے گھر سے پوچھ لیا

جو زباں سے نہ کر سکے وہ بیاں
ہم نے ان کی نظر سے پوچھ لیا

گمرہی اور بڑھ گئی اپنی
راستہ راہبر سے پوچھ لیا

جب زمیں نے دیا نہ تیرا پتا
ہم نے شمس و قمر سے پوچھ لیا

تم نہ آؤ نہ آئے گی رونق
ہم نے دیوار و در سے پوچھ لیا

میری چپ کو وہ کیا سمجھتے ہیں
راز جب چشم تر سے پوچھ لیا

علم کا راز عرشؔ بس یہ ہے
کچھ ادھر کچھ ادھر سے پوچھ لیا