EN हिंदी
رہ کر بھی تجھ سے دور ترے آس پاس ہوں | شیح شیری
rah kar bhi tujhse dur tere aas-pas hun

غزل

رہ کر بھی تجھ سے دور ترے آس پاس ہوں

سیا سچدیو

;

رہ کر بھی تجھ سے دور ترے آس پاس ہوں
ہجراں میں جل رہی ہوں میں جیسے کپاس ہوں

قبضہ کیا ہے کس نے یہ میرے شعور پر
اک عمر ہو گئی ہے مجھے بد حواس ہوں

دنیا نہ دیکھ پائے گی تیرا کوئی بھی عیب
مجھ کو پہن کے دیکھ میں تیرا لباس ہوں

جس سے مرا سکون بھی دیکھا نہیں گیا
دعویٰ وہ کر رہا ہے ترا غم شناس ہوں

میں مسکرا کے بات تو کرتی ہوں اے سیاؔ
اب کس کو میں بتاؤں کی کتنی اداس ہوں