EN हिंदी
رہ حیات میں کوئی چراغ ہی نہ ملا | شیح شیری
rah-e-hayat mein koi charagh hi na mila

غزل

رہ حیات میں کوئی چراغ ہی نہ ملا

کرار نوری

;

رہ حیات میں کوئی چراغ ہی نہ ملا
کسی دماغ سے اپنا دماغ ہی نہ ملا

غم زمانہ سے فرصت تو مل بھی سکتی تھی
تمہاری یاد سے لیکن فراغ ہی نہ ملا

صلائے خاص کی لذت کو عمر بھر ترسے
کہ ان کے ہاتھ سے کوئی ایاغ ہی نہ ملا

بجز لطافت احساس جستجو دل میں
نگار رفتہ کا کوئی سراغ ہی نہ ملا

تم اس سے پوچھتے ہو لذت غم ہجراں
غم حیات سے جس کو فراغ ہی نہ ملا

بس اب یہ خون تمنا ہو نذر ویرانہ
تلاش تھی ہمیں جس کی وہ باغ ہی نہ ملا

تمہی بتاؤ کہ ایسے میں کیا بناتے گھر
کہ گھر کے واسطے کوئی چراغ ہی نہ ملا

ہر ایک شخص سے ہنس کر ملے جو ہم نوریؔ
ہمارے سینے میں دنیا کو داغ ہی نہ ملا