EN हिंदी
ربط کس سے تھا کسے کس کا شناسا کون تھا | شیح شیری
rabt kis se tha kise kis ka shanasa kaun tha

غزل

ربط کس سے تھا کسے کس کا شناسا کون تھا

خالد احمد

;

ربط کس سے تھا کسے کس کا شناسا کون تھا
شہر بھر تنہا تھا لیکن مجھ سا تنہا کون تھا

میں سمندر تھا مگر ویراں تھا صحرا کی طرح
میرے گھر تک چل کے آتا اتنا پیاسا کون تھا

ریزۂ سنگ انا تھا راہ کا کوہ گراں
بڑھ کے لگ جاتا مرے سینے سے ایسا کون تھا

سطح پر خاموشیوں کی گونج ہے نوحہ کناں
اپنی گہرائی کے دریا میں جو ڈوبا کون تھا

ذات آخر ذات تھی شہکار پھر شہکار تھی
کس کے فن کے واسطے سے کس کو سمجھا کون تھا

پاؤں دھرتی پر تھے لیکن ذہن تھے آکاش پر
سب کے سب میری طرح بکھرے تھے یکجا کون تھا

کچھ برے تھے کچھ بھلے تھے خار کچھ گل زار کچھ
ہر کوئی انسان تھا آخر فرشتہ کون تھا

وہ بھڑک اٹھا تو خالدؔ سوچتا ہی رہ گیا
خوب رو پیکر کے اندر تند خو سا کون تھا