EN हिंदी
رات کا تاریک تر پتھر جگر پانی کریں | شیح شیری
raat ka tarik-tar patthar jigar pani karen

غزل

رات کا تاریک تر پتھر جگر پانی کریں

شعیب نظام

;

رات کا تاریک تر پتھر جگر پانی کریں
ہم بھلا کس کے لیے یہ کار لا ثانی کریں

دن تو دن راتوں کو بھی یہ اپنی من مانی کریں
مملکت پر دل کی یادیں جیسے سلطانی کریں

بس گئے ہیں آنکھ میں منظر پس منظر سراب
ہم کہاں تک اپنے خوابوں کی نگہبانی کریں

اک طلسمی رنگ میں کھو جائیں جب چہرے تمام
فرض ہے آنکھوں پہ کیا اظہار حیرانی کریں

اب تو سارے فیصلے ہیں سنگ دل راتوں کے ہاتھ
یہ اگر چاہیں تو پھر خوابوں کی ارزانی کریں

جب اداس آنکھیں دلوں سے گفتگو کرنے لگیں
پھر تو لب بے کار ہی ذکر پشیمانی کریں