EN हिंदी
رات ہے یا ہوا مکانوں میں | شیح شیری
raat hai ya hawa makanon mein

غزل

رات ہے یا ہوا مکانوں میں

رسا چغتائی

;

رات ہے یا ہوا مکانوں میں
جل رہا ہے دیا مکانوں میں

جانے کیا ہو گیا مکینوں کو
جانے کیا ہو گیا مکانوں میں

لوگ کن واہموں میں رہتے ہیں
کاٹتے ہیں سزا مکانوں میں

اک ستارہ زمین پر اترا
اور پھر کھو گیا مکانوں میں

ایسا لگتا ہے خواب کی تعبیر
دیکھتا ہے خدا مکانوں میں

ایک سائے سے روز ہوتا ہے
آمنا سامنا مکانوں میں

ان ستاروں کا مشغلہ ہے رساؔ
تاکنا جھانکنا مکانوں میں