EN हिंदी
راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوں | شیح شیری
rah mein surat-e-naqsh-e-kaf-e-pa rahta hun

غزل

راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوں

منیرؔ  شکوہ آبادی

;

راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوں
ہر گھڑی بننے بگڑنے کو پڑا رہتا ہوں

عمر رفتہ نہ کبھی آئے منانے کے لئے
مدتیں گزریں کہ جینے سے خفا رہتا ہوں

صفت کینہ مرا گھر ہے فلک کے دل میں
گرہ دشمن خاطر میں بندھا رہتا ہوں

فتنۂ حشر یہ کہتا ہے مجھے پوچھے کون
دامن یار کے گوشہ میں پڑا رہتا ہوں

قید ہوں پر ستم غفلت جوہر سے منیرؔ
غصہ بن کر دل زنداں میں بھرا رہتا ہوں