EN हिंदी
راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیا | شیح شیری
rah kar ke us but-e-gumrah ne dhoka diya

غزل

راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیا

منیرؔ  شکوہ آبادی

;

راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیا
گر پڑے اندھے کنوئیں میں چاہ نے دھوکا دیا

ہو گئے مغرور مجھ کو عاشق اپنا جان کر
ہائے اس دل کا برا ہو آہ نے دھوکا دیا

جان کر اس بت کا گھر کعبہ کو سجدہ کر لیا
اے برہمن مجھ کو بیت اللہ نے دھوکا دیا

میں نے جانا بال منہ پر کھول کر آئے حضور
چھپ کر ابر تر میں قرص ماہ نے دھوکا دیا

شیح صاحب آپ کو بت خانے میں لایا منیرؔ
پیر و مرشد بندۂ درگاہ نے دھوکا دیا