قبول تھا کہ فلک مجھ پہ سو جفا کرتا
پر ایک یہ کہ نہ تجھ سے مجھے جدا کرتا
کروں ہوں شاد دل اپنا ترے تصور سے
اگر یہ شغل نہ ہوتا تو کیا کیا کرتا
سفید صفحۂ کاغذ کہیں نہ پھر رہتا
اگر میں جور و جفا کو تری لکھا کرتا
حنا کی طرح اگر دسترس مجھے ہوتی
تو کس خوشی سے ترے پاؤں میں لگا کرتا
غم فراق گر ایسا میں جانتا بیدارؔ
تو اپنے دل کو کسی سے نہ آشنا کرتا
غزل
قبول تھا کہ فلک مجھ پہ سو جفا کرتا
میر محمدی بیدار

