قیامت ہے جو ایسے پر دل امیدوار آئے
جسے وعدے سے نفرت ہو جسے ملنے سے عار آئے
مری بے تابیاں چھا جائیں یارب ان کی تمکیں پر
تڑپتا دیکھ لوں آنکھوں سے جب مجھ کو قرار آئے
مٹا دوں اپنی ہستی خاک کر دوں اپنے آپے کو
مری باتوں سے گر دشمن کے بھی دل میں غبار آئے
اجازت مانگتی ہے دخت رز محفل میں آنے کی
مزا ہو شیخ صاحب کہہ اٹھیں بے اختیار آئے
خدا جانے کہ وہ بیخودؔ سے اتنے بد گماں کیوں ہیں
کہ ہر جلسے میں فرماتے ہیں دیکھو ہوشیار آئے
غزل
قیامت ہے جو ایسے پر دل امیدوار آئے
بیخود دہلوی

