EN हिंदी
قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے | شیح شیری
qasr-e-jaanan tak rasai ho kisi tadbir se

غزل

قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے

بیدم شاہ وارثی

;

قصر جاناں تک رسائی ہو کسی تدبیر سے
طائر جاں کے لیے پر مانگ لوں میں تیر سے

ان کو کیا دھوکا ہوا مجھ ناتواں کو دیکھ
میری صورت کیوں ملاتے ہیں مری تصویر سے

گالیاں دے کر بجائے قم کے اے رشک مسیح
آپ نے مردے جلائے ہیں نئی تدبیر سے

صدقے اے قاتل ترے مجھ تشنۂ دیدار کی
تشنگی جاتی رہی آب دم شمشیر سے

عشوے سے غمزے سے شوخی سے ادا سے ناز سے
مٹنے والا ہوں مٹا دیجے کسی تدبیر سے

اک سوال وصل پر دو دو سزائیں دیں مجھے
تیغ سے کاٹا زباں کو سی دئے لب تیر سے

کچھ نہ ہو اے انقلاب آسماں اتنا تو ہو
غیر کی قسمت بدل جائے میری تقدیر سے

زندگی سے کیوں نہ ہو نفرت کہ محو زلف ہوں
قید ہستی مجھ کو بیدمؔ کم نہیں زنجیر سے