قریۂ حیرت میں دل کا مستقر اک خواب ہے
یہ زمیں اک آئنہ ہے یہ نگر اک خواب ہے
تنگیٔ اوقات سے کھلتی ہے اک راہ نجات
وسعت امروز و فردا سے ادھر اک خواب ہے
ایک صبح نور ہے میرے ستارے کی نیام
اور مری بے تیغ آنکھوں کی سپر اک خواب ہے
یہ زمین و آسماں دونوں حقیقت ہیں مگر
خاک پر موجود ہونے کی خبر اک خواب ہے
سانس رکتا ہے تو گل ہوتی ہے شمع جستجو
رات بھر بیدار رہنے کا ثمر اک خواب ہے
ایک موج آب ہے اک عکس میں لپٹی ہوئی
ایک موج رنگ سے شیر و شکر اک خواب ہے
غزل
قریۂ حیرت میں دل کا مستقر اک خواب ہے
غلام حسین ساجد

