EN हिंदी
قلب و جاں میں حسن کی گہرائیاں رہ جائیں گی | شیح شیری
qalb-o-jaan mein husn ki gahraiyan rah jaengi

غزل

قلب و جاں میں حسن کی گہرائیاں رہ جائیں گی

حسن نعیم

;

قلب و جاں میں حسن کی گہرائیاں رہ جائیں گی
تو وہ سورج ہے تری پرچھائیاں رہ جائیں گی

اہل دل کو یاد صدیوں آئے گا میرا جنوں
شہرتیں ہوں گی فنا رسوائیاں رہ جائیں گی

گفتگو تجھ سے کریں گی میری غزلیں صبح و شام
تیری خلوت میں مری تنہائیاں رہ جائیں گی

میں نکل جاؤں گا اپنی جستجو میں ایک دن
بزم یاراں میں خیال آرائیاں رہ جائیں گی

دور تک کوئی نہ ہوگا نغمہ سنجوں میں نعیمؔ
بس چمن میں یاد کی پروائیاں رہ جائیں گی