EN हिंदी
قلم ہو جائے سر پروا نہ کرنا | شیح شیری
qalam ho jae sar parwa na karna

غزل

قلم ہو جائے سر پروا نہ کرنا

عاجز ماتوی

;

قلم ہو جائے سر پروا نہ کرنا
امیر شہر کو سجدہ نہ کرنا

کیا ترک تعلق تم نے بہتر
مگر اس کا کہیں چرچا نہ کرنا

مجھے تربت میں از حد عافیت ہے
مسیحا اب مجھے زندہ نہ کرنا

بڑھاتا ہے کسل دورئ منزل
خیال وسعت صحرا نہ کرنا

کٹھن ہو جائے گی منزل شناسی
کبھی مسخ ان کا نقش پا نہ کرنا

محبت میں یہ ہے دستور دنیا
ذرا سی بات کو افشا نہ کرنا

یہ ہے اب اک طریقہ گفتگو کا
کسی کے سامنے لب وا نہ کرنا

تمہارے منہ پہ وہ سچ بول دے گا
مقابل اپنے آئینہ نہ کرنا

مناسب ہے کہ عاجزؔ توبہ کر لو
نہ تضحیک مے و میخانہ کرنا