پیاس لگنا تھی لگی سرشار ہونا تھا ہوئے
ہم کو غرقاب سراب دار ہونا تھا ہوئے
ہم تری آہٹ پہ سڑکوں پر نکل آئے تو کیا
ہم کو رسوا بر سر بازار ہونا تھا ہوئے
تیرے کاندھوں کے لیے سر دے کے آخر کیا گیا
ہم کو یوں بھی بے سر و دستار ہونا تھا ہوئے
تو کہے تو اپنے ہاتھوں اپنی شہ رگ کاٹ لیں
ہم کو تیرے ہاتھ کی تلوار ہونا تھا ہوئے
خواب کے عالم میں چلنے کا مرض کب جا سکا
خواب ہی میں نیند سے بیدار ہونا تھا ہوئے
ان سروں کی اور ان محلوں کی قسمت ایک تھی
سنگ چلنا تھے چلے مسمار ہونا تھا ہوئے
ایک دن خالدؔ ہمیں یہ سوانگ بھرنا تھا بھرا
جھوٹ گھڑنا تھے گھڑے فن کار ہونا تھا ہوئے
غزل
پیاس لگنا تھی لگی سرشار ہونا تھا ہوئے
خالد احمد

