EN हिंदी
پیو کہ ماحصل ہوش کس نے دیکھا ہے | شیح شیری
piyo ki ma-hasal-e-hosh kis ne dekha hai

غزل

پیو کہ ماحصل ہوش کس نے دیکھا ہے

انور شعور

;

پیو کہ ماحصل ہوش کس نے دیکھا ہے
تمام وہم و گماں ہے تمام دھوکا ہے

نہ کیوں ہو صاحب جام‌ جہاں نما کو حسد
شراب سے مجھے اپنا سراغ ملتا ہے

کسی نے خواب کے ریزے پلک پلک چن کر
جو شاہکار بنایا ہے ٹوٹ سکتا ہے

میں انتظار کروں گا اگر مری فریاد
ابھی سکوت بہ گلشن، صدا بہ صحرا ہے

یہی ثواب ہے کیا کم مری ریاضت کا
کہ ایک خلق ترے نام سے شناسا ہے

زہے نصیب کہ اس کو مرا خیال آیا
مگر یہ بات حقیقت نہیں تمنا ہے

گناہ گار ہوں اے مادر عدم مجھ کو
بلک بلک کے ترے بازوؤں میں رونا ہے

خمیر ایک ہے سب کا تو اے زمین اے ماں
زبان‌ و مذہب و قوم و وطن یہ سب کیا ہے

غلط سہی مگر آساں نہیں کہ یہ نکتہ
کسی حکیم نے اپنے لہو سے لکھا ہے

پیمبروں کو اتارا گیا تھا قوموں پر
خدا نے مجھ پہ مگر قوم کو اتارا ہے