EN हिंदी
پھول زمین پر گرا پھر مجھے نیند آ گئی | شیح شیری
phul zamin par gira phir mujhe nind aa gai

غزل

پھول زمین پر گرا پھر مجھے نیند آ گئی

رئیس فروغ

;

پھول زمین پر گرا پھر مجھے نیند آ گئی
دور کسی نے کچھ کہا پھر مجھے نیند آ گئی

ابر کی اوٹ میں کہیں نرم سی دستکیں ہوئیں
ساتھ ہی کوئی در کھلا پھر مجھے نیند آ گئی

رات بہت ہوا چلی اور شجر بہت ڈرے
میں بھی ذرا ذرا ڈرا پھر مجھے نیند آ گئی

اور ہی ایک سمت سے اور ہی اک مقام پر
گرد نے شہر کو چھوا پھر مجھے نیند آ گئی

اپنے ہی ایک روپ سے تازہ سخن کے درمیاں
میں کسی بات پر ہنسا پھر مجھے نیند آ گئی

تو کہیں آس پاس تھا وہ ترا التباس تھا
میں اسے دیکھتا رہا پھر مجھے نیند آ گئی

ایک عجب فراق سے ایک عجب وصال تک
اپنے خیال میں چلا پھر مجھے نیند آ گئی