پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی
مختصر ہے کیوں وفا کی زندگی
کس نے دیکھا ہے خدا کی موت کو
کس نے دیکھی ہے خدا کی زندگی
ہاتھ پاؤں مارنا بے کار ہے
جی رہے ہیں ہم خلا کی زندگی
بارہا بھی موت سے ہے سامنا
آزما لی بارہا کی زندگی
درد سہنے کا الگ انداز ہے
جی رہے ہیں ہم ادا کی زندگی
چاہے جنگل ہوں یا صحرا یا نگر
اصل میں تو ہے ہوا کی زندگی
غزل
پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی
فرحت عباس شاہ

