EN हिंदी
پھول ہو کر پھول کو کیا چاہنا | شیح شیری
phul ho kar phul ko kya chahna

غزل

پھول ہو کر پھول کو کیا چاہنا

حکیم منظور

;

پھول ہو کر پھول کو کیا چاہنا
جب یہ بے آنگن تھا جب تھا چاہنا

زخم سارے ہی ہیں اپنے جسم زاد
کس سبب ان کا تماشا چاہنا

پھر سے ہو تجدید خوشبو سوچئے
چاہنا اور وہ بھی اپنا چاہنا

ایک مشکل رازداری چاہئے
ایک مشکل چاہتوں کا چاہنا

دستگیری اے نم آنکھوں والی صبح
چاہنا کیا چاہنا کیا چاہنا

چاند کی آیت سمندر پر پڑھو
چاہنا اس کو تو ایسا چاہنا

حسب زا منظورؔ میرا نام ہے
کام میرا سب کا اچھا چاہنا