EN हिंदी
پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے | شیح شیری
phir se tere nuqush nazar pe ayan hue

غزل

پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے

قمر نقوی

;

پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے
لو پھر وصال یار کے لمحے جواں ہوئے

اک بات بڑھ کے باعث ناراضگی ہوئی
کچھ لفظ منہ سے نکلے تو آہ و فغاں ہوئے

تیرے سبھی دروغ وجاہت میں چھپ گئے
اور میری صاف بات پہ کتنے گماں ہوئے

کیوں کر کریں گے یاد وہ درد فراق میں
ہم اس قدر قریب بھی ان کے کہاں ہوئے

مہلت ہی کب ملی کہ سنبھل پاتے ہم قمرؔ
ہم پر تو جتنے ظلم ہوئے ناگہاں ہوئے