EN हिंदी
پھر اس کے بعد کا کوئی نہ ہو گزر مجھ میں | شیح شیری
phir is ke baad ka koi na ho guzar mujh mein

غزل

پھر اس کے بعد کا کوئی نہ ہو گزر مجھ میں

آزاد گلاٹی

;

پھر اس کے بعد کا کوئی نہ ہو گزر مجھ میں
کبھی تو ایک پل اے دوست یوں ٹھہر مجھ میں

جو خود میں جھانکوں تو سناٹے سنسناتے ہیں
کوئی تو کر گیا ہے رات یوں بسر مجھ میں

بھٹکتا پھرتا ہوں سنسان رہ گزاروں پر
بسا ہوا ہے کسی یاد کا نگر مجھ میں

عجب نہیں کئی موتی بھی تیرے ہاتھ لگیں
ذرا لے کام تو ہمت سے اور اتر مجھ میں

میں تیری ذات کا سایا ہوں تیرے اندر ہوں
مری تلاش سر رہگزر نہ کر مجھ میں