EN हिंदी
پھل جائے محبت تو محبت ہے محبت | شیح شیری
phal jae mohabbat to mohabbat hai mohabbat

غزل

پھل جائے محبت تو محبت ہے محبت

منظر لکھنوی

;

پھل جائے محبت تو محبت ہے محبت
اور راس نہ آئے تو مصیبت ہے محبت

سرمایۂ دیوانۂ الفت ہے محبت
اے الٹے ہوئے دل تری قیمت ہے محبت

ہے ہم ہی تلک خیر غنیمت ہے محبت
ہو جائے انہیں بھی تو قیامت ہے محبت

رو رو کے وہ پوچھیں گے مری آنکھ سے آنسو
آئیں گے وہ دن بھی جو سلامت ہے محبت

بدنام کیا لاکھ تجھے خود غرضوں نے
پھر بھی تری دنیا کو ضرورت ہے محبت

دنیا کہے کچھ ہے مگر ایمان کی یہ بات
ہونے کی طرح ہو تو عبادت ہے محبت

ہے جن سے ان آنکھوں کی قسم کھاتا ہوں منظرؔ
میرے لیے پروانۂ جنت ہے محبت