EN हिंदी
پیڑ گرتا ہے تو جو اس پہ گزر ہوتی ہے | شیح شیری
peD girta hai to jo us pe guzar hoti hai

غزل

پیڑ گرتا ہے تو جو اس پہ گزر ہوتی ہے

ترکش پردیپ

;

پیڑ گرتا ہے تو جو اس پہ گزر ہوتی ہے
ایک سائے کے سوا کس کو خبر ہوتی ہے

حسن ہوتا ہے کسی شے کا کوئی اپنا ہی
اور پھر دیکھنے والے کی نظر ہوتی ہے

ہم نہیں تیرگی سے خوفزدہ ہونے کے
جانتے ہیں کہ ہر اک شب کی سحر ہوتی ہے

آپ نے اس کے فسانے ہی سنے ہوتے ہیں
اور اچانک یہ بلا آپ کے سر ہوتی ہے

میرے اشعار اس آواز کی ہیں گونج فقط
وہ اک آواز جو دل ٹوٹنے پر ہوتی ہے