EN हिंदी
پشیماں ہیں ترک محبت کے بعد | شیح شیری
pasheman hain tark-e-mohabbat ke baad

غزل

پشیماں ہیں ترک محبت کے بعد

روش صدیقی

;

پشیماں ہیں ترک محبت کے بعد
بڑھیں الجھنیں اور فرصت کے بعد

ابھی تو قیامت کا ہے آسرا
خدا جانے کیا ہو قیامت کے بعد

یہ حسن خلوص شکایت بجا
مگر کیا رہے گا شکایت کے بعد

وہ ہر بار ملتے ہیں اس شان سے
ملے جس طرح کوئی مدت کے بعد

محبت سے پہلے یہ عالم نہ تھا
کہاں آ گئے ہم محبت کے بعد

روشؔ یہ خوش آہنگ رنگ غزل
دل آویز ہے رنگ حسرتؔ کے بعد