پس غبار ہوس رات ڈھلتی رہتی ہے
نشے میں چور پگھلتی مچلتی رہتی ہے
خبر یہی ہے کہ آغوش ہجر میں پہروں
تمہاری یاد بھی پہلو بدلتی رہتی ہے
یہ میں نے دیکھا ہے اکثر پھٹی پرانی حیات
سر دریچۂ شب ہاتھ ملتی رہتی ہے
قفس سے ہم بھی نکلنے کو کب سے ہیں بے تاب
مگر وہ ساعت آخر جو ٹلتی رہتی ہے
وہ رنگ رنگ بہاراں ہے کھلتا رہتا ہے
وہ شاخ شاخ ثمر ور ہے پھلتی رہتی ہے
ہے ایک کار زیاں شہر شہر در بدری
مگر یہی کہ طبیعت بہلتی رہتی ہے
غزل
پس غبار ہوس رات ڈھلتی رہتی ہے
مظہر امام

