EN हिंदी
پس غبار طلب خوف جستجو ہے بہت | شیح شیری
pas-e-ghubar-e-talab KHauf-e-justuju hai bahut

غزل

پس غبار طلب خوف جستجو ہے بہت

سلطان اختر

;

پس غبار طلب خوف جستجو ہے بہت
رفیق راہ مگر ان کی آرزو ہے بہت

لرز کے ٹوٹ ہی جائے نہ آج برگ بدن
لہو میں قرب کی گرمی رگوں میں لو ہے بہت

الجھ گیا ہے وہ خواہش کے جال میں یعنی
فریب رنگ ہوس اب کے دو بہ دو ہے بہت

کٹا پھٹا سہی ملبوس کہنگی نہ اتار
ترے لیے یہی دیوار آبرو ہے بہت

مزاج وقت کی تصویر بن گئے ہم لوگ
لبوں پہ برف جمی ہے دلوں میں لو ہے بہت

ہرا بھرا نظر آتا ہے یوں تو وہ اخترؔ
دیار دل میں مگر قحط رنگ و بو ہے بہت