EN हिंदी
پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے | شیح شیری
paida kiya hai uDti hui KHak se mujhe

غزل

پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے

رفیق راز

;

پیدا کیا ہے اڑتی ہوئی خاک سے مجھے
نسبت یہی ہے صرصر سفاک سے مجھے

اب تو اسیر گردش لیل و نہار ہوں
مدت ہوئی ہے اترے ہوئے چاک سے مجھے

آئے گا کوئی کھولے گا بند قبائے حرف
دے گا نجات کاغذی پوشاک سے مجھے

دنیا ہے عشوہ ساز تو میں ہوں مکین ذات
خطرہ نہیں ہے اس زن بے باک سے مجھے

پر پھڑپھڑا رہا ہوں بصیرت کے دام میں
کوئی چھڑائے قبضۂ ادراک سے مجھے

رہ جائے گی لکیر لہو کی زمین پر
لے جائیے نہ باندھ کے فتراک سے مجھے

مجھ سے زمین خوف زدہ ہے رفیق رازؔ
یہ جانتی ہے ربط ہے افلاک سے مجھے